26 جولائی 2026 - 06:18
حصۂ اول | امریکی فوج کو 15 روزہ جنگ میں پہنچنے والے تزویراتی نقصانات کی رپورٹ کا پیغام کیا ہے؟

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان اور شعبۂ تعلقات عامہ کے نائب سربراہ، بریگیڈ؛یئر پاسدار حسین محبی، نے ذرائع سے بات چیت کوتے ہوئے موجودہ صورت حال میں تیسری جارحانہ جنگ کے دوران، خطے میں امریکی دہشت گرد فوج کو پندرہ دنوں میں پہنچنے والے نقصانات کی فہرست پیش کی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کے مطابق، یہ رپورٹ، جو جدید امریکی ڈیفنس سسٹمز، لاجسٹک انفراسٹرکچر اور فضائیہ سے متعلق سازوسامان کی تباہی پر مشتمل ہے، نہ صرف میدانِ جنگ کی صورت حال کو واضح کرتی ہے بلکہ جنگ جاری رکھنے کے لئے امریکی اسٹراٹیجک صلاحیت کے نئے افق کا خاکہ بھی پیش کرتی ہے۔

1۔ ایئر-میزائل ڈیفنس کو نابینا کرنا = کمانڈ اور کنٹرول کے نظام کی تباہی (ریڈار صفائی مہم)

ایرانی حملوں کا امریکی ریڈار اور ایئر-میزائل ڈیفنس سسٹمز کو "اندھا" کرنے پر ارتکاز اس رپورٹ کا سب سے اہم پہلو ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان سردار محبی کے مطابق، صرف 15 دنوں میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، 6 پیٹریاٹ ریڈار، 3 فضائی و بحری مانیٹرنگ ریڈار، 7 میزائل دفاعی ریڈار، اور 5 طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈار تباہ کر دیئے گئے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ ایران کا ہدف امریکی ریڈار نیٹ ورک کو "اندھا" کرنا تھا۔

عسکری ماہرینِ فوج کا کہنا ہے کہ پیٹریاٹ سسٹمز اور طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈاروں کی اس سطح تک تباہی نے امریکی فضائی دفاع کی "آنکھیں" عملاً پھوڑ دی ہیں۔ رپورٹ میں کلیدی جملہ یہ ہے: "پیٹریاٹ سسٹم اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون بغیر کسی مزاحمت کے اپنے ہدف تک پہنچ رہے ہیں" یہ مسئلہ امریکی ڈیفنس چین کے خاتمے اور ایرانی ہتھیاروں کے بلا روک ٹوک گذرنے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس کارروائی کو بین الاقوامی حلقوں میں "ریڈار دبانے کی مہم" قرار دیا جا رہا ہے اور ہم نے ابنا اردو میں اس کو "ریڈار صفائی مہم" کا نام دیا ہے، جس نے امریکی افواج کے خلاف مزید طاقتور میزائل اور ڈرون حملوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔

2۔ لاجسٹک انفراسٹرکچر کی تباہی = سپلائی چین کو مفلوج کرنا

یہ کاروائیاں ایئر ڈیفنس کی تباہ کرنے سے ہٹ کر، سپلائی، سپورٹ اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کی وسیع تباہی کی بھی گواہی دیتی ہیں۔ 6 جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے مراکز، 17 ارسنل سپورٹ کے گودام، 12 فیول ٹینکرز، اور 6 میزائل ڈپو تباہ کیے گئے؛  یہ امریکی فوج کی آپریشنل صلاحیت کو مرکزی دھچکا ہے۔ ان مراکز کے بغیر، امریکہ اپنے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال، ایندھن رسانی اور ہتھیاروں کی دوبارہ فراہمی کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔

یہ "فرسودہ کرنے والی حکمتِ عملی" (Attrition Strategy) ہے، جس میں براہِ راست طیاروں سے لڑنے کے بجائے ان کی سپلائی اور سپورٹ چین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایئرکرافٹ کیریئر کے ایندھن بھرنے والے پلیٹ فارمز، ایک فیول ڈاک، اور ریموٹ کنٹرولڈ کشتیوں کے مرکزی گوداموں کی تباہی نے امریکی بحری اور فضائی صلاحیت کو شدید خلل سے دوچار کر دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: یداللہ ربیعی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha